الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى الْجَوَاز بِالْجَمِيعَ وَحَمَلَ النَّهَى عَلَى كَرَاهَةِ التَّنْزِيهِ باب: تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی¤پر محمول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6129
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ قَالَ سُفْيَانُ حَظُّ الْأَرْضِ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عرب کی چند بستیوں کی طرف بھیجا اور حکم دیاکہ میں وہاں سے زمین کاتہائی اور چوتھائی لے کر آؤں۔