الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى الْجَوَاز بِالْجَمِيعَ وَحَمَلَ النَّهَى عَلَى كَرَاهَةِ التَّنْزِيهِ باب: تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی¤پر محمول کرنے کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو وَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ طَاوُسٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا۔ سیدنا عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ بٹائی پرزمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے۔ عمروبن دینار نے کہا: جب میں نے طاؤوس کے سامنے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین اپنے بھائی کوبطور عطیہ دے دے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر زمین کی مقررہ پیداوار لے۔