حدیث نمبر: 6127
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَصْحَابَ الْمَزَارِعِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُكْرُونَ مَزَارِعَهُمْ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ الْبِئْرِ فَجَاءُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَصَمُوا فِي بَعْضِ ذَلِكَ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْرُوا بِذَلِكَ وَقَالَ اكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھیتیوں کے مالکان عہد ِ نبوی میں اپنی کھیتیاں اس قطعۂ زمین کے عوض کرائے پردیتے تھے، جہاں پانی والی نالیاں بہتی تھیں یا کنویں کے ارد گرد جہاں پانی خود بخود چڑھ آتاتھا، لیکن جب وہ بعض معاملات میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس طرح زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا اور فرمایا: سونے اورچاندی کے عوض زمین کرائے پردیاکرو۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مالک اپنی زمین کی اجرت میں زمین کے بعض حصے اپنے لیے خاص کر لیتا تھا، جس سے بسا اوقات مالک کو زیادہ فائدہ ہو جاتا تھا اور مُزَارِع کو نقصان اور کبھی اس کے برعکس۔ دوسرایہ مسئلہ ثابت ہوا کہ زمین ٹھیکے پر دینا درست ہے، مثلا آٹھ ہزار روپے کے عوض ایک سال کے لیے ایک ایکڑ زمین کرائے پر دینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض / حدیث: 6127
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3391، والنسائي: 7/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1542»