الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بَابُ حُجَّةِ مَنْ مَنَعَ كِرَاءَ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا إِلَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ باب: زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے¤اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6124
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الْحَقْلُ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر زمین دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کے عوض کوئی متعین چیز لے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حقل ہے اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اگلے باب کی پہلی حدیث میں اسی متن کو مرفوع بیان کیا گیا ہے۔