الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6121
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ فَتَرَكْنَاهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مخابرہ کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، پھر ہم نے اس کو ترک ہی کردیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان تمام احادیث میں زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا ہے، اگلے ابواب کا مطالعہ جاری رکھیں اور یہ نکتہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ممانعت کی کیا وجہ ہے اور جواز کی کون سی صورتیں ہیں۔