الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ۔ سیدنا رافع ابن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداوار اور معین غلے کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے، میرے ایک چچا ہمارے ہاں آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا ہے، جو ہمارے لئے سود مند تھا، بہرحال اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لئے زیادہ مفید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداواریا غلے کی معین مقدار کے عوض کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے اور زمین کے مالکوں کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کریں یا کسی کو کاشت کرنے کے لیے دے دیں ، اس کے علاوہ باقی صورتوں کو ناپسند کیا ہے۔