الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6118
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ رَافِعٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے ابن خدیج! تم زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے اپنے دوچچو ں سے سنا ، وہ اپنے گھر والوں کو یہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔