الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَرْضَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعَهْدِ عُمَرَ وَعَهْدِ عُثْمَانَ وَصَدْرِ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِهَا بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ۔ امام نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چھوٹی نہروں کے پاس اگنے والی فصل اور چارے کی کچھ مقدار کے عوض زمینوں کو کرائے پر دیا جاتا تھا، میں یہ نہیں جانتا کہ چارے کی مقدار کتنی ہوتی تھی۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانوں میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے شروع میں اپنی زمین کو کرائے پر دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا آخر دور جاری تھا کہ انہیں یہ بات موصول ہوئی کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو اس طرح کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس وہ ان کے پاس آئے، جبکہ میں نافع بھی ان کے ساتھ تھا اور اُن سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام ترک کردیا اور کرائے پر زمین دینا چھوڑ دیا، پھر جب ان سے اس بارے میں پوچھاجاتا تھا تو وہ کہتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کاخیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔