الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6116
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ أَوْ مَاءٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا تَبِيعُوهَا فَسَأَلْتُ سَعِيدًا مَا لَا تَبِيعُوهَا الْكِرَاءُ قَالَ نَعَمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زائد زمین یاپانی ہو تو اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو دے دے اور اس کو فروخت نہ کرے۔ سلیم بن حیان کہتے ہیں: میں نے سعید سے پوچھا کہ فروخت نہ کرنے کامطلب کرائے پر دینا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔