الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6115
۔ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانِ) قَالَ: كَانَتْ لِرِجَالِ فُضُولُ أَرْضِينَ فَكَانُوا يُوَاجِرُوْنَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعُهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ۔))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بعض لوگوں کے پاس زائد زمینیں ہوتی تھیں، وہ ان کو تہائی ،چوتھائی اور نصف حصے کے عوض اجرت پر دے دیتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے یاپھر اپنے کسی بھائی کو بطور عطیہ دے دے، اگر وہ ایسا کام نہ کرنا چاہے تو پھر اپنی زمین کو اپنے پاس رکھے۔