الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6114
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے، اگر اس کو کاشت کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اس سے عاجز آ گیا ہو تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو عطیہ کے طور پر دے دے اور اس کو کرائے پر نہ دے۔