الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6111
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْفَقُ نَهَانَا أَنْ نَزْرَعَ أَرْضًا يَمْلِكُ أَحَدُنَا رَقَبَتَهَا أَوْ مِنْحَةَ رَجُلٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ رافع کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایاہے کہ وہ کام ہمارے لئے بہتری والاتھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری ہمارے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، تفصیل یہ ہے کہ اگر زمین کسی کی ملکیت ہے یا کسی کا عطیہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں بٹائی پر کام کرنے سے منع فرما دیا ہے۔