الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا باب: زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقُلْتُ إِنَّ لِي أَرْضًا أُكْرِيهَا فَقَالَ رَافِعٌ لَا تُكْرِهَا بِشَيْءٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَدَعْهَا فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكْتُهَا وَأَرْضِي فَإِنْ زَرَعَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ مِنَ التِّبْنِ قَالَ لَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَا تِبْنًا قُلْتُ إِنِّي لَمْ أُشَارِطْهُ إِنَّمَا أَهْدَى إِلَيَّ شَيْئًا قَالَ لَا تَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا۔ سیدنا رافع کے غلام ابونجاشی کہتے ہیں: میں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں سوال کیا اور کہا: میری زمین ہے، کیا میں اسے کرائے پر دے سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: اس کو کسی چیز کے عوض کرانے پر نہ دینا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے، اگر خود کاشت نہیں کرتا تو اپنے کسی بھائی کو کاشت کرنے کے لیے دے دے اور اگر وہ اس طرح بھی نہیں کرتا تو اس کو ویسے ہی چھوڑ دے۔ میں نے کہا: جی یہ بتائیں کہ اگر میں اپنی زمین کو کاشت کے بغیر چھوڑ دیتا ہوں، لیکن اگر میرا کوئی بھائی اس کو کاشت کرتا ہے اور میری طرف کچھ چارہ بھیج دیتا ہے (تو اس میں کیا حرج ہے)؟ انھوں نے کہا: تو اس سے کچھ بھی نہ لے اور نہ چارہ۔ میں نے کہا: جی میں اس سے کوئی شرط نہیں لگاتا، بس وہ میری طرف کوئی چیز بطورِ ہدیہ بھیج دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس سے کچھ بھی نہ لے۔