الفتح الربانی
كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض— مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ باب: مساقات اور مزارعت کا بیان
حدیث نمبر: 6105
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَهُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ وَصَارَتْ خَيْبَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ ضَعُفَ عَنْ عَمَلِهَا فَدَفَعُوهَا إِلَى الْيَهُودِ يَقُومُونَ عَلَيْهَا وَيُنْفِقُونَ عَلَيْهَا عَلَى أَنَّ لَهُمْ نِصْفَ مَا خَرَجَ مِنْهَا الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بشیر بن یسارسے مروی ہے کہ انھوں نے کئی صحابہ کرام کو اس طرح ذکر کرتے ہوئے پایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر پر غالب آئے اور خیبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ملکیت میں آگیا تو چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اور صحابہ) خود اس میں کام کاج کرنے سے کمزور تھے، اس لیے اس کو یہودیوں کے سپرد کردیا کہ وہ اس کی نگرانی کریں گے اور اس پر خرچ کریں گے اور ان کو اس کے عوض نصف پھل ملے گا۔ (الحدیث)