حدیث نمبر: 6104
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو حجاز سے جلاوطن کیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کے علاقے پرقابض ہوئے تو وہاں سے یہودیوں کو نکال دینے کا ارادہ کیا، کیونکہ فتح کے بعد وہ زمین اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اس شرط پر ہمیں ہی یہاں ٹھہرنے دیا جائے کہ ہم نصف پھل کے عوض محنت کریں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ہم جب تک چاہیں گے، تم کویہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی جانب جلا وطن کردیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ مزارعت کے جواز کی دلیل ہے، لیکن اس کی صورت یہ ہے کہ مالک کل پیدوار کا کچھ حصہ اپنے لیے مقرر کرے اور کچھ مزارعین کے لیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض / حدیث: 6104
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2338، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6368»