حدیث نمبر: 6103
عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ وَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اور میرے باپ اور دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے میری منگنی کی اور نکاح بھی کر دیا، ایک دن میرے و الد سیدنایزید رضی اللہ عنہ صدقہ کرنے کے لیے دینار لے کر نکلے اور مسجد میں ایک بندے کے پاس رکھ دیئے (تاکہ وہ کسی کو دے دے)، لیکن میں خود اس سے لے کر گھر آ گیا، میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں نے ان کو ساتھ لیا اور یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یزید! تو نے جو نیت کی، وہ ہو گئی، اور اے معن! تو نے جس نیت سے لیے ہیں، وہ تیرے لیے ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنایزید رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ اس کا وکیل اس رقم کو محتاجوں میں تقسیم کر دے گا، چونکہ اس کا اپنا بیٹا محتاجوں میں شامل تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صدقے کو نافذ کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الوكالة / حدیث: 6103
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15954»