الفتح الربانی
كتاب الوكالة— وکالت کے مسائل
بَابُ مَنْ وُكِّلَ فِي شَرَاءِ شَيْءٍ فَاشْتَرَى بِالثَّمَنِ أَكْثَرَ مِنْهُ وَتَصْرفَ فِي الزَّيَادَةِ باب: اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے ¤اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 6101
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قر بانیاں دے کر بھیجا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کا گو شت، چمڑے اور جھولیں صدقہ کر دینا۔
وضاحت:
فوائد: … ہر جائز امر میں وکالت درست ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔