الفتح الربانی
كتاب الوكالة— وکالت کے مسائل
بَابُ مَنْ وُكِّلَ فِي شَرَاءِ شَيْءٍ فَاشْتَرَى بِالثَّمَنِ أَكْثَرَ مِنْهُ وَتَصْرفَ فِي الزَّيَادَةِ باب: اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے ¤اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 6100
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینے والے کے لیےیوں دعا کرتے: اے اللہ! اس آدمی پر رحمت فرما۔ ایک دفعہ میں اپنے باپ کے مال کاصدقہ لے کرآیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ!ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کی زکوۃ اپنے بیٹے کے سپرد کر دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔