الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي وَفَادَةِ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةً وَافِدِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: بنو سعد بن بکر کی طرف سے سیدنا ضمام بن ثعلبہؓ کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 61
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) بِنَحْوِ هَذَا وَزَادَ، قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، قَالَ: وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ.ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت میں ایک اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”میں آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا ہوں اور میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والے افراد کا قاصد ہوں، بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ضمام بن ثعلبہ ہوں۔“
وضاحت:
فوائد: … شریعت کا اصول یہ ہے کہ ضرورت کے وقت اہل علم سے سوال کیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳، سورۂ انبیاء: ۷)
لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے سے منع بھی کر رکھا تھا، اس لیے ان آداب کو جاننے والے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سوالات کا سلسلہ ہونا چاہیے تاکہ مختلف احکام کی وضاحت ہوتی رہے، اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے۔
لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے سے منع بھی کر رکھا تھا، اس لیے ان آداب کو جاننے والے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سوالات کا سلسلہ ہونا چاہیے تاکہ مختلف احکام کی وضاحت ہوتی رہے، اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے۔