الفتح الربانی
كتاب الوكالة— وکالت کے مسائل
بَابُ مَنْ وُكِّلَ فِي شَرَاءِ شَيْءٍ فَاشْتَرَى بِالثَّمَنِ أَكْثَرَ مِنْهُ وَتَصْرفَ فِي الزَّيَادَةِ باب: اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے ¤اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 6099
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ امانت دار منشی جو مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا اور خوش دلی سے اس کو دے دیتا ہو، جس کے حق میں اس کو حکم دیا جاتا ہے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … وکالت کامطلب یہ ہے کہ اپنامعاملہ دوسرے کو سونپ دینا، اس کے جواز پر کتاب وسنت کے بہت سارے دلائل موجودہیں۔