الفتح الربانی
كتاب الصلح وأحكام الجرار— صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي الطَّرِيْقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ كَمْ تُجْعَلُ باب: جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
حدیث نمبر: 6095
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا فَقَضَى أَنْ يَتْرُكَ لِلطَّرِيقِ فِيهَا سَبْعَ أَذْرُعٍ قَالَ وَكَانَتْ تِلْكَ الطَّرِيقُ تُسَمَّى الْمِيتَاءَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کی خالی زمین پڑی رہے اور لوگ اس سے گزرتے رہیںیا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرتے رہیں تو وہ زمین اُس پہلے مالک کی ہی رہے گی اور اس کو استعمال کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ لوگوں کے لیے سات ہاتھ چوڑا راستہ چھوڑ دیا جائے گا، ہمارے ہاں کچھ عرصہ تک زمین کو عارضی طورپر استعمال کرنے والے لوگ مستقل قبضے کا دعوی کر دیتے ہیں،یہ دعوی خلافِ شرع ہے۔