الفتح الربانی
كتاب الصلح وأحكام الجرار— صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي الطَّرِيْقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ كَمْ تُجْعَلُ باب: جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
حدیث نمبر: 6093
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں اور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ لے اور آمد ورفت والا راستہ سات ہاتھ چھوڑناہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اَلْمِیْتَائ‘‘ باب ’’اَتٰییَأْتِیْ‘‘ سے مفعال کا وزن ہے اور میم زائد ہے، ’’اَلطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ‘‘ سے مراد بڑا راستہ ہے، جہاں سے کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے، بعض نے اس کے معانی کھلے راستے یا آباد راستے کے بھی کیے ہیں۔