حدیث نمبر: 6091
عَنْ عِكْرَمَةَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدُهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ فَلَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرِجَالًا كَثِيرًا فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ فَقَالَ الْحَالِفُ أَيْ أَخِي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جِدَارِي فَفَعَلَ الْآخَرُ فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانِ خَشَبَةً فَقَالَ لِي عَمْرٌو فَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عکر مہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ بنو مغیرہ کے دو بھائی تھے، ان میں سے ایک نے غلا م آزاد کرنے کی قسم اٹھاکر کہا کہ وہ اپنے ہمسائے کواپنی دیوار میں شہتیر نہ رکھنے دے گا، پھر جب ان دونوں کی ملاقات سیدنا مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ اور کئی صحابہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: ہم لوگ یہ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں شہتیر وغیرہ رکھنے سے نہ روکے۔ یہ سن کر قسم اٹھانے والے نے کہا: اے میرے بھائی! مجھے پتہ چل گیا کہ یہ فیصلہ میری مخالفت میں اور تیرے حق میں ہونے والا ہے، جبکہ میں قسم بھی اٹھا چکا ہوں، اب تو میری دیوار کے ساتھ ستون بنالے، پس اس نے ایسے ہی کیا اور پھر ستون پر لکڑی رکھ لی۔ عمرو نے مجھ سے کہا: میں نے اس چیز کو دیکھا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں پڑوسیوں کے حقوق کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے، خود غرضی اور مفاد پرستی کے اس دور میں ان حقوق کی پاسدار کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، خاص طور پر شہری زندگی میں۔ا گر ایک آدمی کوئی مکان یا چھپر بنانا چاہتا ہے اور ایک دو اطراف سے ہمسائیوں کیدیواریں موجود ہیں تو شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ اس آدمی کو اِن اطراف سے دیواریا ستون بنانے کی تکلیف نہ دی جائے، یہ حق ادا کرنے سے اس کا کام بھی جلدی ہو جائے گا، محنت بھی کم ہو گی اور خرچہ بھی بچ جائے گا۔ لیکن جب یہ حق ادا کرنے کی باری آتی ہے تو کوئی سوچتا ہے کہ اس کی دیوار پر وزن زیادہ آ جائے گا، کوئی کہتا ہے کہ وہ اس کی دیوار کو نقصان پہنچائیں گے، کسی کو یہ فکر لگی ہوتی ہے کہ کل کلاں یہ اس دیوار پر قبضے کا دعوی ہی نہ کر دے، یہ سب خطرات اس وقت سامنے آ جاتے ہیں، جب شریعت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا شوق اور رغبت نہ ہو، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حکم سمجھ کر ہمسائے کا یہ حق ادا کر دیا جائے تو اس کی وجہ سے رحمت و برکت اور اجر و ثواب تو یقینی طور پر مل سکتا ہے، ان شاء اللہ نقصان نہیں ہو گا اور اگر کوئی نقصان ہو جائے تو اللہ تعالی کے لیے صبر کر کے خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا جائے اور حدیث ِ رسول کے احترام میں خاموش رہا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلح وأحكام الجرار / حدیث: 6091
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، عكرمة بن سلمة مجھول، و ھشام بن يحيي مستور۔ أخرجه ابن ماجه: 2336 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16035»