الفتح الربانی
كتاب الصلح وأحكام الجرار— صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام
بَابُ جَوَازِ الصُّلْحِ عَنِ الْمَعْلُوْمِ وَالْمَجْهُولِ وَالتَّحَلَّل مِنْهُمَا باب: معلوم یا نامعلوم چیزمیں صلح کے جائز ہونے اوردونوں صورتوں میں ہو جانے والی¤کمی بیشی کو معاف کردینے کا بیان
حدیث نمبر: 6086
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ يَعْنِي مَظْلَمَةً لِأَخِيهِ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال اور عزت میں کوئی زیادتی کی ہو تو اس کے پاس آکر اس کو معاف کر وا لے، قبل اس کے کہ اس کا مؤاخذہ کیاجائے، وگرنہ جس کا مؤاخذہ کیا جائے گا، اس دن درہم و دینار نہیں چلے گا، اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوں گی تو اس سے نیکیاں لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی، وگرنہ مظلوم کی برائیاں ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔