الفتح الربانی
كتاب الصلح وأحكام الجرار— صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام
بابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ باب: باہمی صلح جوئی کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 6083
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتلاؤں کہ جس کا درجہ نماز، روزے اور صدقہ سے بھی زیادہ ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپس میں مصالحت کرنا اورآپس میں فساد پیدا کرنا تو (نیکیوں کو) تباہ کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نفلی نماز روزے اور صدقہ و خیرات کے فوائد محدود ہیں، جبکہ صلح کے بے شمار فوائد ہیں، معاشرے کے اتحاد و اتفاق اور محبت و مودّت کا انحصار صلح جوئی پر ہے اور صلح نہ کرنے کی صورت میں بغض و عداوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور فرائض اور واجبات کے اجر و ثواب کو بھی مٹا دیتی ہے۔