الفتح الربانی
كتاب التفليس والحجر— مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل
بَابُ إِثْبَاتِ الرُّشْدِ وَعَلَامَاتِ الْبُلُوغ باب: سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خِمْرَةٍ قَدْ حِضْنَ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي خِمَارٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَكَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى عَلَيَّ حَقْوَهُ فَقَالَ شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي فِي حِجْرِ أُمِّ سَلَمَةَ فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ أَوْ لَا أَرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ سیدہ ام طلحۂ طلحات صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور دیکھا کہ بالغہ بچیاں بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی تھیں، پس انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک دفعہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، جبکہ میری پرورش میں ایک لڑکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ازار مجھے دیا اورفرمایا: یہ لڑکی اور ام سلمہ کی تربیت میں پرورش پانے والے لڑکی،یہ ازار پھاڑ کر ان دونوں کو دے دو، کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں۔
بلوغت اور عدم بلوغت کی علامتوں کا خلاصہ یہ ہے: علمائے امت کا اس چیز پر اتفاق ہے کہ احتلام مردو زن دونوں کے بالغ ہونے کی اور حیض اور حمل عورت کے بالغ ہونے کی علامت ہیں۔ شافعیہ کا خیال ہے کہ زیرناف بالوں کو کافروں کے بالغ یا نابالغ ہونے کی علامت قرار دیا جائے گا، کیونکہ کفر کی وجہ سے ان کی ان باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی عمر کتنی ہے یا ان کو احتلام ہو چکا ہے یا نہیں،یاان کی بچیوں کو حیض آ چکا ہے یا نہیں۔