الفتح الربانی
كتاب التفليس والحجر— مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل
بَابُ إِثْبَاتِ الرُّشْدِ وَعَلَامَاتِ الْبُلُوغ باب: سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 6081
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ ثُمَّ عَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کو غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کی عمر چودہ برس تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت نہ دی، پھر ان کو پندرہ برس کی عمر میں غزوۂ خندق کے موقع پر پیش کیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں جنگ کا معاملہ بیان کیا گیا ہے کہ کتنے وجود اور طاقت کا آدمی جا سکتا ہے اور کون سا نہیں جا سکتا، چودہ یا پندرہ برس کی عمر کا بلوغت یا عدم بلوغت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ عمر کو اس ضمن میں معیار قرار دیا جا سکتا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نو سال کی عمر میں بالغ ہو گئی تھیں۔