الفتح الربانی
كتاب التفليس والحجر— مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل
بَابُ إِثْبَاتِ الرُّشْدِ وَعَلَامَاتِ الْبُلُوغ باب: سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 6080
عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيَّ هَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَخَلَّى عَنِّي وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے قریظہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، جب لوگوں کو میرے بالغ یا نابالغ ہونے میں شک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیاکہ دیکھا جائے کہ آیا میرے زیر ناف بال اگے ہوئے ہیں یا نہیں، پس جب انھوں نے دیکھا کہ میرےیہ بال اگے ہوئے نہیں ہیں تو مجھے چھوڑ دیا اور قیدیوں میں شامل کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ خندق کے موقع پر یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ نے عہد شکنی کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گئے، انھوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے، اب جس بچے کے بارے میں بالغ ہونے یا نہ ہونے کا شک گزرتا تو اس کے زیر ناف بال دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا، اگر وہ اگ چکے ہوتے تو اس کو بالغ مرد سمجھ کر قتل کر دیا جاتا اور بصورتِ دیگر اس کو بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ زیر ناف بال بلوغت اور عدم بلوغت کے مابین حد فاصل ہیں، لیکن کیایہ عام قانون ہے؟ اس باب کی آخری حدیث کے فوائد دیکھیں۔