حدیث نمبر: 6078
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ قَالَ إِذَا احْتَلَمَ وَأُونِسَ مِنْهُ خَيْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور یتیم کے بارے میں سوال کیا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ انھوں نے کہا: جب وہ بالغ ہو جائے اور اس سے بھلائی محسوس کی جانے لگے۔

وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ معاشرے کے سمجھ دار لوگ آسانی کے ساتھ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ فلاں بچہ بالغ ہو جانے کے بعد مال و دولت سنبھالنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، دیکھا گیا ہے کہ بعض بچے بالغ ہونے سے پہلے بلا کے سمجھ داراور معاملات میں مضبوط گرفت والے ہوتے ہیں، جبکہ بعض بالغ ہونے کے بعد بھی نا سمجھ اور نا عاقبت اندیش رہتے ہیں، بہرحال یہ معاملہ قابل فہم ہے اور آسانی سے اس کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التفليس والحجر / حدیث: 6078
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2685»