الفتح الربانی
كتاب التفليس والحجر— مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل
بَابُ إِثْبَاتِ الرُّشْدِ وَعَلَامَاتِ الْبُلُوغ باب: سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ فَأَجَابَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ يُتْمِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي وَلَعَمْرِي أَنَّ الرَّجُلَ تُنْبِتُ لِحْيَتُهُ وَهُوَ ضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ فَإِذَا كَانَ يَأْخُذُ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ الْيُتْمُ الْحَدِيثَ۔ یزید بن ہرمز کہتے ہیں: نجدہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پانچ باتیں پوچھنے کے لیے ایک خط لکھا، … … ان میں ایک بات یہ تھی کہ یتیم کی یتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں لکھا: تونے مجھ سے سوال کیاہے کہ یتیم کی یتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، مجھے میری عمر کی قسم ہے کہ آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے معاملہ میں کمزور گر فت والا رہتاہے، جب وہ لوگوں کے معاملات میں سے اپنے لیے اچھی چیز کا انتخاب کر سکتا ہو تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی۔