الفتح الربانی
كتاب التفليس والحجر— مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل
بَاب مَنْ وَجَدَ سِلْعَتَهُ عِنْدَ رَجُلٍ اِبْتَاعَهَا مِنْهُ وَقَدْ أَفْلَس باب: جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
حدیث نمبر: 6075
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرض خواہ، مفلس کے پاس اپنا مال بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … تینوں احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو جانے والے شخص کے پاس بعینہ اپنا سامان پا لے تو وہ اسی کا ہو گا، مفلس کے باقی قرض خواہوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، بشرطیکہ اس نے اس کی قیمت میں کچھ بھی وصول نہ کیا ہو۔ حدیث کے الفاظ سے یہ شرط بھی سمجھ آرہی ہے کہ ابھی تک خریدار نے کسی کے مال میں کوئی تصرف نہ کیا ہو تو پھر اصل مالک زیادہ حقدار ہوگا۔ اگر خریدار نے مال میں کوئی تصرف کرلیا ہو، اس کی حالت میں کوئی تبدیلی وغیرہ کرلی ہو، اس میں کچھ استعمال کرلیا ہو تو اصل مالک زیادہ حقدار نہیں ہوگا۔ بلکہ عام قرض خواہوں کی طرح حصہ کے مطابق حقدار ہوگا۔ (عبداللہ رفیق)