الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ باب: وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرْضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي! مَا أَعْمَدَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ وَمَا جَاءَ بِكَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: لَبِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا (شَكَّ سَهْلٌ) يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخَشُوعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غُفِرَ لَهُ))یوسف بن عبداللہ بن سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”بھتیجے! کس چیز نے تجھ سے اس شہر کا ارادہ کروایا؟ کون سی چیز لے آئی تجھے؟“ میں نے کہا: ”جی کوئی چیز نہیں ہے، بس آپ اور میرے والد کے درمیان جو تعلق تھا، اس کے لیے آیا ہوں،“ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ جھوٹ بولنے کا برا وقت ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر کھڑا ہوا اور دو یا چار رکعت نماز پڑھی اور اس میں اچھے انداز میں ذکر اور خشوع اختیار کیا، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی، اس کو بخش دیا جائے گا۔‘“
ابو درداءؓ یہ بت اس وقت کر رہے ہیں جب ان کو موت کے آثار نظر آ رہے تھے اور راوی کے بقول اسی بیماری میں وہ فوت ہو گئے تھے تو وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولنے کا وقت نہیں۔ اس لیے میں ایک سچی حدیث سنانا چاہتا ہوں۔ (عبدللہ رفیق)