حدیث نمبر: 6067
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتَّبِعْهُ وَلَا بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مالدارکا قرض ادا کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تجھے کسی صاحب ِ مال کا حوالہ دیا جائے، تو تو اس کو تسلیم کرلے اور ایک سودے میں دو سودے نہیں ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … پہلے حوالہ کی مثال ملاحظہ کریں، زاہد نے عثمان سے ایک ہزار روپے کا قرض لینا ہے اور عثمان نے اتنی ہی رقم ابراہیم سے لینی ہے، اب عثمان زاہد سے کہتا ہے کہ تو نے مجھ سے جو ہزار روپیہ لینا ہے، وہ ابراہیم سے لے لینا، جبکہ ابراہیم مالدار بھی ہے، ایسی صورت میں زاہد کو چاہیے کہ وہ عثمان کی بات تسلیم کر لے اور اس کو قرض لینےیا دینے سے بری کر دے۔
حوالہ کی تعریف: … مقروض کا اپنے قرض خواہ کو غیر کی طرف منتقل کر دینا۔
ایک سودے میں دو سودوں کے منع ہونے کے بارے میں مفصل بحث پہلے ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحوالة والضمان / حدیث: 6067
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2404 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5395»