حدیث نمبر: 6059
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض بطورِ گروی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل وعیال کی خوراک کے لئے یہودی سے وہ جو ادھار لئے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کُنْْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ} … ’’اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والانہ پاؤ تو قبضہ میں رکھی ہوئی گروی ہو گی۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۸۳) اس آیت ِ مقدسہ میں سفر میں گروی رکھنے کا ذکر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گروی رکھنا سفر کے ساتھ خاص ہے، یہاں اغلبیت کے طور پر سفر کا ذکر کیا گیا، وگرنہ حضر میں بھی گروی رکھنا درست ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس حدیث سے کفار کے ساتھ ایسے معاملات کا جواز نکلتا ہے، جن کے متعلق واضح حرمت نہیں آئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الرهن / حدیث: 6059
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه الترمذي: 1214، والنسائي: 7/ 303، وابن ماجه: 2439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2109»