الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ فَضْلٍ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ باب: تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلُهُ صَدَقَةٌ قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ قُلْتُ سَمِعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلُهُ صَدَقَةٌ ثُمَّ سَمِعْتُكَ تَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ قَالَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ فَأَنْظَرَ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہر روز کے عوض اس قرض کی مقدار کے برابر صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی، اسے ہر روز اس کی مقدار کا دو گنا صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک دن میں نے آپ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہر روز کے عوض اس قرض کی مقدار کے برابر صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ اور ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی، اسے ہر روز اس کی مقدار کا دو گنا صدقہ کرنے کا اجر ملے گا۔ (پہلی دفعہ ایک گنا اور دوسری دفعہ دو گنا کی بات کی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض کے وعدے کا وقت آنے سے پہلے ہر روز اس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور جب قرض کا وعدہ آ جاتا ہے اور وہ مہلت دے دیتا ہے تو ہر روز قرض کی دوگنا مقدار کا ثواب ملتا ہے۔