الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ فَضْلٍ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ باب: تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی تھا، اس نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، البتہ وہ لوگوں کے ساتھ لین دین کے معاملات کے بارے میں اپنے نمائندے سے کہتا تھا: جس سے جومیسر ہو، لے لینا اور جس کے لے مشکل ہو، اس کو چھوڑدینا اوردرگزر کرنا،شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر فرمادے، پس جب وہ فوت ہوا تو اللہ تعالی نے اس سے کہا: کیا تو نے کبھی خیر کا کوئی کام بھی کیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، البتہ میں نے ایک عمل کیا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں لوگوں سے کاروباری لین دین کیا کرتا تھا اور جب میں نے اپنے لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تھا تو اس کو کہتا تھا: جو کسی سے میسر ہو، وہ لے لینا اور جس کے لیے مشکل ہو، اس کو رہنے دینا اور درگزر کرنا، شاید اس وجہ سے اللہ تعالی ہم سے درگزر کرے، اللہ تعالی نے کہا: تحقیق میں نے تجھ سے درگزر کر دیا ہے۔