الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ باب: وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ) غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي! أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ)) أَكَذَاكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْعاصم بن سفیان ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم لوگ غزوہ سلاسل کے لیے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انہوں نے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: ”اے ابو ایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوں میں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ”بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“