الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ فَضْلٍ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ باب: تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ وَمَا مِنْ جُرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جُرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے زمین کی طرف اشارہ کیا، ابوعبدالرحمن نے اسی طرح کا اشارہ بھی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کردے تواللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی بھاپ سے محفوظ رکھے گا، خبردار!جنت والے اعمال اونچی جگہ پر سخت زمین پر ہل چلا نے کی مانند مشکل ہیں (یہ کلمہ تین دفعہ دہرایا) اور دوزخ والے اعمال خواہش پرستی کی وجہ سے نرم زمین پر ہل چلانے کی مانند ہیں، اور خوش بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچ گیا ہو۔ وہ گھونٹ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، جو بندہ غصے کو برداشت کر کے پی جاتا ہے، جب بندہ (غصے پر قابو پا کر) ایسا گھونٹ پیتا ہے تو اللہ تعالی اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔