الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ مَنِ اسْتَدَانَ لِكَارِثَةٍ أَوْ حَاجَةٍ ضَرُورِيَّةِ نَاوِيا الْوَفَاء وَلَمْ يَجِدُ وَلَّى اللهُ عَنْهُ باب: اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
حدیث نمبر: 6044
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس انسان پر قرض ہو اوراس کو چکا دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالی کی طر ف سے اس پر ایک نگہبان مقرر ہو گا۔