الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ مَنِ اسْتَدَانَ لِكَارِثَةٍ أَوْ حَاجَةٍ ضَرُورِيَّةِ نَاوِيا الْوَفَاء وَلَمْ يَجِدُ وَلَّى اللهُ عَنْهُ باب: اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
حدیث نمبر: 6042
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن علی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے کہاگیا کہ آپ کا قرض سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص قرض لینے کے بعد اس کو ادا کرنے کی نیت رکھے گا، تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کو خصوص مدد حاصل ہو گی۔ پس میں وہ مدد تلاش کر رہی ہوں۔