الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ مَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِي الدَّيْنِ وَاسْتِحْبَابِ وَضْعِ بَعْضِ الدِّينِ عَنِ الْمُعْسِرِ باب: ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِي عَلَى هَذَا أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ وَقَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهَا فَقَالَ أَعْطِهِ حَقَّهُ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا قَالَ أَعْطِهِ حَقَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ تَبْعَثُنَا إِلَى خَيْبَرَ فَأَرْجُو أَنْ تُغْنِمَنَا شَيْئًا فَأَرْجِعُ فَأَقْضِيهِ قَالَ أَعْطِهِ حَقَّهُ قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ ثَلَاثًا لَمْ يُرَاجَعْ فَخَرَجَ بِهِ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ إِلَى السُّوقِ وَعَلَى رَأْسِهِ عِصَابَةٌ وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِبُرْدَةٍ فَنَزَعَ الْعِمَامَةَ عَنْ رَأْسِهِ فَاتَّزَرَ بِهَا وَنَزَعَ الْبُرْدَةَ فَقَالَ اشْتَرِ مِنِّي هَذِهِ الْبُرْدَةَ فَبَاعَهَا مِنْهُ بِأَرْبَعَةِ الدَّرَاهِمِ فَمَرَّتْ عَجُوزٌ فَقَالَتْ مَالَكَ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ دُونَكَ هَذَا بِبُرْدٍ عَلَيْهَا طَرَحَتْهُ عَلَيْهِ۔ سیدناابن ابو حدر د اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک یہودی کے چاردرہم دینے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس میری شکایت لے کرگیااورکہا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس آدمی نے میرے چار درہم دینے ہیں، لیکن اب یہ مجھ پر غالب آ گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس کو اس کا حق ادا کرو۔ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میرے پاس گنجائش نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھر فرمایا: اس کا حق اداکرو۔ انھوں نے دوبارہ کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے پاس گنجائش نہیں ہے، میں نے اس یہودی کو بتایاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خیبر کی جانب بھیج رہے ہیں، اس لیے ہمیں امید ہے کہ مال غنیمت حاصل ہوگا اور میں واپس آکر قر ض اداکر دوں گا، لیکن آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھر حکم دیا اور فرمایا: اس کا حق اداکر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی بات تین دفعہ ارشاد فرما دیتے تو اس کے بعد مزید تکرار نہیں کرتے تھے۔ سیدنا ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ بازار گئے، سرپر ایک پگڑ ی تھی اور چادر کا تہبند باند ھ رکھاتھا، سر سے پگڑی اتاری اور اس کا تہبند باندھالیا اور چاد ر اتارلی اور آکر یہودی سے کہا: یہ چادر مجھ سے خرید لو، پس اس نے چار درہم میں یہ چادر خرید لی، اتنے میں وہاں سے ایک بڑھیا کا گزر ہوا، اس نے پوچھا: اے صحابیٔ رسول! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے اس کو ساری بات بتلائی، بڑھیا کے پاس ایک چادر تھی، اس نے اس کی بات سن کر وہ اس کی طرف پھینک دی اور کہا: یہ لے چادر۔