الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ مَا يَجُوزُ بَيْعُهُ فِي الدَّيْنِ وَاسْتِحْبَابِ وَضْعِ بَعْضِ الدِّينِ عَنِ الْمُعْسِرِ باب: ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6037
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ فَبَاعُوهُ بِثَمَانِ مِائَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا اور مدبر غلام اپنے ورثے میں چھوڑا، جبکہ وہ مقرو ض بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس غلام کو اس کے قرض کی ادائیگی میں فروخت کردیں، پس انہوں نے اس کو آٹھ سو درہم میں فروخت کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’مُدَبَّر‘‘ اس غلام کو کہتے ہیں، جس کا آقا اپنی زندگی میںیہ کہہ دیتا ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہو گا۔
اس روایت کی اصل شکل درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک ابومذکور نامی انصاری آدمی نے اپنے غلام کو مدبَّر بنا دیا، جبکہ اِس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: ’’اس کو کون آدمی خریدے گا، اس کو کون آدمی خریدے گا؟‘‘ پس سیدنا نُعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں اُس کو خرید لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو مذکور کو اس کی قیمت دی اور فرمایا: ’’جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرے، اگر زائد مال ہو تو اس کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور پھر بھی کوئی مال بچ جائے
تو اِدھر اُدھر خرچ کر دے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۹۹۷، مسند احمد: ۳/ ۳۰۵)
اس روایت کی اصل شکل درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک ابومذکور نامی انصاری آدمی نے اپنے غلام کو مدبَّر بنا دیا، جبکہ اِس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: ’’اس کو کون آدمی خریدے گا، اس کو کون آدمی خریدے گا؟‘‘ پس سیدنا نُعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں اُس کو خرید لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو مذکور کو اس کی قیمت دی اور فرمایا: ’’جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرے، اگر زائد مال ہو تو اس کو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور پھر بھی کوئی مال بچ جائے
تو اِدھر اُدھر خرچ کر دے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۹۹۷، مسند احمد: ۳/ ۳۰۵)