حدیث نمبر: 6035
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَهِدَ جَنَازَةً سَأَلَ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ لَهُ وَفَاءٌ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ صَلَّى عَلَيْهِ وَإِنْ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ میں شرکت کرتے توپو چھتے: تمہارے اس ساتھی پر کوئی قر ض تو نہیں ہے؟ اگر لوگ کہتے: جی ہاں ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پو چھتے: تو کیا اس نے قرض ادا کرنے کے لیے کچھ مال بھی چھوڑ اہے؟ اگرلوگ کہتے کہ جی ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر لوگ کہتے کہ اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا تو آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: خود اپنے ساتھی پرنماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دئیے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہوں، اس لیے جوقر ض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو مال چھو ڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثا ء کا ہوگا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب فتوحات کی وجہ سے آمدنی کے ذرائع بڑھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہونے والے مقروض صحابہ کی ادائیگی کر دیتے تھے، اس طرح ان کا قرضہ ادا ہو جاتا، پس ان کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بارے میں سختی بھی زائل ہو جاتی۔ نمازِ جنازہ کی عدم ادائیگی کا منسوخ ہونا، اس حدیث سے یہ استدلال تو نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6731، ومسلم: 1619، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7886»