الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابٌ فِي أَنَّ نَفْسَ الْمَيِّتِ مَحْبُوسَةٌ عَنِ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ باب: قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ أَهَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ إِنَّهُ مَأْسُورٌ وَفِي لَفْظٍ إِنَّهُ مَحْبُوسٌ عَنِ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ قَالَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَزَّنَ لَهُ قَضَوْا عَنْهُ حَتَّى مَا جَاءَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی فلا ں کا کوئی آدمی یہاں موجو د ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، بالآخر ایک آدمی کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کس چیز نے تجھے پہلی دو بار جواب دینے سے روکے رکھا، میں نے تیرے ساتھ بھلائی ہی کرنی تھی، بات یہ ہے کہ تمہارا فلاں آدمی اپنے قرضے کی وجہ سے جنت سے روک دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس میت کے گھر والوں کو اور اس کے لیے غمزدہ ہونے والوں کو دیکھا کہ انھوں نے اس کا قرضہ اس طرح ادا کیا کہ کسی چیز کا مطالبہ کرنے والا کوئی شخص بھی باقی نہیں رہا تھا۔