الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْمَدِينِ إِذَا لَمْ يُرِدِ الْوَفَاءَ أَوْ تَهَاوَنَ فِيْهِ وَعَدْمِ صَلَاةِ الْفَاضِلِ عَلَى مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ باب: ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6027
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَلْقَاهُ عَبْدٌ بِهَا بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى عَنْهَا أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَدَعَ لَهُ قَضَاءًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں (معروف) منہی عنہ کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑاگناہ یہ ہے کہ آدمی کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو اور اس نے اسے اداکرنے کے لئے ترکہ بھی نہ چھوڑا ہو۔