حدیث نمبر: 6026
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ نُصَلِّي عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا نَعَمْ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ قَالَ فَقَالَ بِأَصَابِعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس میت نے کوئی قرضہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر ایک اورجنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کچھ قرض چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پھر فرمایا: کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں پر شمارکرتے ہوئے فرمایا: یہ آگ کے تین داغ ہیں۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ مقروض تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ مقروض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ترکہ بھی چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور صحابہ کو اس کی ادائیگی کا حکم دیا، اس سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ علاقے کی معروف اہل علم شخصیات کو ان لوگوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، جن کی نمازِ جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ کے تین دیناروں کو آگ کے تین داغ کیوں قرار دیا؟
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ’’اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔‘‘ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔‘‘ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: ’’بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّV: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی … ‘‘
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو داغ ہیں۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلم كتاب القرض والدين / حدیث: 6026
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه ومختصرا البخاري: 2289، 2295 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16624»