الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْمَدِينِ إِذَا لَمْ يُرِدِ الْوَفَاءَ أَوْ تَهَاوَنَ فِيْهِ وَعَدْمِ صَلَاةِ الْفَاضِلِ عَلَى مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ باب: ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6024
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ الْجَنَّةُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ إِلَّا الدَّيْنَ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان لوگوں سے (قرض وغیرہ کے طور پر) مال لیتا ہے اور اس کاارادہ واپس اداکرنے کا بھی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ادائیگی میں اس کی مدد کرتا ہے، لیکن جوانسان لوگوں کامال اس ارادہ سے لیتا ہے کہ اسے ضائع کر دے تو اللہ تعالی بھی اس کو تلف کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حسنِ نیت کا انجام ہے کہ اللہ تعالی ادائیگی کے یا معافی کے اسباب کر دے گا، جبکہ اس معاملے میں بری نیت ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔