الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ التَحْدِيرِ مِنَ الدِّينِ وَجَوَارِهِ لِلْحَاجَةِ وَمَا جَاءَ فِي اسْتِدَانَةِ النَّبِي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرض لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6020
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَعْدِلُ الدَّيْنُ بِالْكُفْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو (تو وہ دیکھ لے کہ) وہاں دینار ودرہم تو نہیں ہوں گے، بلکہ نیکیوں اور بدیوں کا تبادلہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … حشر والے دن قرض خواہ، قرضدار کی نیکیاں لے کر یا اپنی برائیاں اس کے کھاتے میں ڈال کر راضی ہو گا، جبکہ اس مقام پر سب سے زیادہ ضرورت نیکیوں کی زیادتی اور برائیوںکی کمی کی ہو گی۔