الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ باب: وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
عَنْ أَبِي غَالِبٍ الرَّاسِبِيِّ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ فَقَامَ إِلَى وَضُوئِهِ إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الْوُضُوءِ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ وَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ)) قَالَ أَبُو غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرْتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ وَلَا سِتٍّ وَلَا سَبْعٍ وَلَا ثَمَانِيٍ وَلَا تِسْعٍ وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِابو غالب راسبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ حمصی رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی نماز کی اذان سن کر وضو کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی ہتھیلی کو لگنے والے پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، ان قطروں کی تعداد کے برابر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہوتے ہیں اور اس کی پڑھی جانے والی نماز زائد ہوتی ہے۔“ ابو غالب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا! ایک دفعہ نہیں، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس اور دس بار نہیں،“ پھر انہوں نے اس تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے تالی بجائی۔