الفتح الربانی
كتاب السلم كتاب القرض والدين— کتاب سلم
بَابُ التَحْدِيرِ مِنَ الدِّينِ وَجَوَارِهِ لِلْحَاجَةِ وَمَا جَاءَ فِي اسْتِدَانَةِ النَّبِي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرض لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6019
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امن کے بعد اپنے نفسوں کو خوف میں مبتلا نہ کر دیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض لے کر۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی مانے نہ مانے، قرضدار آدمی کا امن تباہ ہو جاتا ہے، عجیب قسم کی احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے، قرضہ وصول کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وقت پر ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں توہین آمیز باتیں سننا پڑتی ہیں اور ایسی صورت میں آدمی اپنے قرض خواہ سے چھپنا شروع کر دیتا ہے، نفس کو بے عزت کلمات سننے کی عادت ہو جاتی ہے اور بسا اوقات تو بھری مجلس میں غیرت و حمیت کو کھونا پڑتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے معاشرے میں اس کی ساخت کو بری طرح نقصان پہنچتا ہے۔ ان ہی مصائب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف سے تعبیر کیا ہے۔